شعر:
نہ پوچھ کیسے پلوں سے گزر رہا ہوں میں
اسے نہ جینا سمجھ یار، مر رہا ہوں میں
تیری جدائی ستاتی ہے، لوٹ کر آ جا
بہت کمی تیری محسوس کر رہا ہوں میں
بن سجن کے میں رتیاں بتاؤں سخی
سیج موری سجی کی سجی رہ گئی
چار بتیاں میں پریمتم سے کر نہ سکی
آگ من میں لگی کی لگی رہ گئی
میرے محبوب جس دن سے روٹھے ہو تم
بے مزا ہو کے یہ زندگی رہ گئی
کچھ تو بتلاؤ اس بے رخی کا سبب
کیا میرے پیار میں کچھ کمی رہ گئی
یوں تو کہنے کو ہوں میں سہاگن سخی
سچ تو یہ ہے کہ میں ہوں ابھاگن سخی
ساجن نے گلے سے لگایا نہیں
میری پوجا میں شاید کمی رہ گئی
آج کی رات بیتھی بھی ہو جائے گی
ساجن آئیں گے، عید ہو جائے گی
میرا گھونگھٹ جھکے کا جھکا رہ گیا
آرتی بھی دھری کی دھری رہ گئی