کلام: دوستوں اس زمانے کو کیا ہو گیا

دوستوں اس زمانے کو کیا ہو گیا
آدمی آدمی سے جدا ہو گیا
دوستی اب سیاست بنی دیکھ لو
دشمنی بھی یہاں مدعا ہو گیا


اب نہ وہ خلوص، نہ وفا باقی
ہر کوئی اپنے مطلب کا ہوا باقی
وہ محبت، وہ چاہت، وہ باتیں کہاں
اب تو بس نام کا رہ گیا باقی

جہاں چہرے پہ مسکان نقلی سی ہے
ہر نظر میں کوئی چال چکّی سی ہے
سچ کہو تو برا لگے لوگوں کو
جھوٹ سن کے خوشی جھلکّی سی ہے

دوستوں اب زمانہ بدلتا گیا
دل کی قیمت یہاں کم پڑتا گیا
جو بھی سچ بولتا ہے زمانے میں
وہی تنہا، وہی اکیلا ہوتا گیا


یہی دنیا، یہی ریت رسمیں رہیں
جو بکے، وہی اب معزز کہیں
آدمی آدمی سے خفا ہو گیا
دوستوں اس زمانے کو کیا ہو گیا



Home