شعر:
-------------------
محبت بڑھی جا رہی ہے اور
محبت کا سجدہ ادا ہو رہا ہے
فناء ہوا اور بقاء کو پایا
ہو عشق ایسا کمال یہ ہے
ترے سوا کچھ نظر نہ آئے
ہو عشق ایسا کمال یہ ہے
خزاں کی رت میں گلاب لہجہ
بنا کے رکھنا، کمال یہ ہے
ہوا کی زد میں دیئے جلانا
جلا کے رکھنا، کمال یہ ہے
کسی کی راہ کے خدا کی خاطر
ہٹا کے کانٹے، اُٹھا کے پتھر
پھر اس کے آگے نگاہ اپنی
جھکا کے رکھنا، کمال یہ ہے
خیال اپنا، مزاج اپنا
پسند اپنی، کمال کیا ہے
جو یار چاہے وہ حال اپنا
بنا کے رکھنا، کمال یہ ہے
ذرا سی لغزش میں گر تعلق
ہیں توڑ لیتے زمانے والے
پھر ایسے ویسوں سے بھی تعلق
بنا کے رکھنا، کمال یہ ہے
-----------------------
قوّالی:
----------------------------
حرم کا شیخ حقیقت کو جانتا ہی نہیں
خدا بشر میں چھپا ہے یہ مانتا ہی نہیں
نماز روزے پہ تقریر روز کرتا ہے
خدا ملے گا کہاں یہ تو بولتا ہی نہیں
بتاؤ آجکل مسجد میں ایسا کون کرتا ہے
اے عشق کہیں لے چل، دیر و حرم کو چھوڑیں
ان دونوں مکانوں میں جھگڑا نظر آتا ہے
عاشق کی حقیقت کو معشوق ہی سے پوچھو
اللہ بھی مجنوں کو لیلیٰ نظر آتا ہے
بتاؤ آجکل مسجد میں ایسا کون کرتا ہے
خدا کو سامنے رکھ کر کے سجدہ کون کرتا ہے
خدا شاہد ہے جب ہم آپ کو مشہود پاتے ہیں
نمازِ بےخودی پڑھتے ہوئے سجدے میں جاتے ہیں
جدھر ہم دیکھتے ہیں وہ نظر آتے ہیں ہر ایک میں
تخیل میں تصور میں وہ تو خود ہی سماتے ہیں
تم سے گر تم کو جدا سمجھوں تو میں کافر ہوں
میں اگر غیرِ خدا سمجھوں تو میں کافر ہوں
سامنے جب بھی تمہیں پاؤں اپنے جاناں
نہ اگر سجدہ رواں سمجھوں تو میں کافر ہوں
تم سے کہنا ہے میرا آج سے تم میرے ہو
میں نہ اقبال عطا سمجھوں تو میں کافر ہوں
بتاؤ آجکل مسجد میں ایسا کون کرتا ہے
خدا گر آسماں پہ ہے تو ایسا کون کہتا ہے
انالحق بولتا ہے کون، دعویٰ کون کرتا ہے
نمازیں مسجدوں میں ہو رہی چودہ سو سالوں سے
کیا شبیرؓ جو سجدہ وہ سجدہ کون کرتا ہے
سنا ہے حشر میں جنت ملے گی سجدوں کے بدلے
مگر سوچو خودداری کا یہ سودا کون کرتا ہے
سخاوت اولیاء کی تو بہت مشہور ہے لیکن
کرم دنیا میں محمودی کے جیسا کون کرتا ہے
کیسا کرم کس کا کرم، کیسا تماشا کر دیا
پہلے جان، پھر جانے جاں، پھر جانِ جاناں کر دیا
آگئے جب موج میں قطرے کو دریا کر دیا
ڈال دی جس پر نظر بندے کو مولا کر دیا
کرم دنیا میں محمودی کے جیسا کون کرتا ہے
تم نے کرم کیا تو ہمیں زندگی ملی
تم کیا ملے کہ دونوں جہاں کی خوشی ملی
جنت کی جستجو میں بھٹکتے کہاں کہاں
اچھا ہوا جو ہم کو تمہاری گلی ملی
کرم دنیا میں محمودی کے جیسا کون کرتا ہے
تیرا کرم ہے کسی کے کرم سے کیا مطلب
ہمارا ایک ہے لاکھوں صنم سے کیا مطلب
کرم دنیا میں محمودی کے جیسا کون کرتا ہے
پھسا کر قوم کو مذہب کے چکر میں تصور جی
مجھے معلوم ہے، جنت کا وعدہ کون کرتا ہے