روَم در بُتکده شینم
ب پیشِ بُت کنم سجدہ
اَگَر یابَم خَریدارے
فروشم دین و ایماں را
دل کی دنیا کو جو برباد کیا کرتا ہے
اُسی بےدرد کو دل یاد کیا کرتا ہے
جب کبھی ظلم وہ ایجاد کیا کرتا ہے
سب سے وہ مجھے یاد کیا کرتا ہے
کچھ عجب لُطف سے بیداد کیا کرتا ہے
بال و پر نوچ کے آزاد کیا کرتا ہے
اُس کی بیداد کو دل یاد کیا کرتا ہے، کیوں...
شبِ ہجر وہ دم بہ دم یاد آئے
بہت یاد آ کر بھی کم یاد آئے
عدو اُن کو بحرِ کرم یاد آئے
ستم آزمانے کو ہم یاد آئے
ایک ایسا بھی گزرا ہے عالم کے پہروں
نہ تم یاد آئے نہ ہم یاد آئے
ہم ہی وہ مجسم وفا ہیں کہ جن کو
ستم بھی بطرزِ کرم یاد آئے
شازی آج تنہا چمن میں گئے تھے
بہت اُن کے نقشِ قدم یاد آئے