وہ دل کہاں سے لاؤں

شعر:
اتنا شدید غم ہے کہ احساسِ غم نہیں
کیسے کہوں کہ آپ کا مجھ پر کرم نہیں
منزل مجھے ملے نہ ملے، اِس کا غم نہیں
تم ساتھ ساتھ ہو میرے، یہ بھی تو کم نہیں

قوّالی

وہ دل کہاں سے لاؤں، تیری یاد جو بھلا دے
پیر و مرشد، میرے جاناں
اے میرے جانِ من جانِ جاں
وہ دل کہاں سے لاؤں، تیری یاد جو بھلا دے

مجھے یاد آنے والے، کوئی راستہ بتا دے
وہ دل کہاں سے لاؤں، تیری یاد جو بھلا دے

رہنے دے مجھ کو اپنے، قدموں کی خاک بن کر
جو نہیں تجھے گوارا، مجھے خاک میں ملا دے
وہ دل کہاں سے لاؤں، تیری یاد جو بھلا دے

میرے دل نے تجھ کو چاہا، کیا یہی میری خطا ہے
مانا خطا ہے لیکن، ایسی نہ اب سزا دے
وہ دل کہاں سے لاؤں، تیری یاد جو بھلا دے

مجھے یاد آنے والے، کوئی راستہ بتا دے
وہ دل کہاں سے لاؤں، تیری یاد جو بھلا دے

میری آنکھوں کو ہے اب بھی تیری دید کی تمنا
ترسائے گا کہاں تک، اب پیاس تُو بجھا دے
وہ دل کہاں سے لاؤں، تیری یاد جو بھلا دے


Home